المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هارون بن بنت أم هانئ، عن أم هانئ باب: ہارون بن بنتِ ام ہانی کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21358
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَاقْضِيهِ يَوْمًا آخَرَ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَاقْضِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِيِهِ»ترجمہ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک برتن لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں روزے سے تھی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہوا کہ میں آپ کا بچا ہوا پانی واپس کر دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ رمضان کی قضا کا روزہ تھا تو اسے کسی اور دن قضا کر لو، اور اگر نفلی تھا تو چاہو تو قضا کر لو، اور چاہو تو نہ کرو۔“