حدیث نمبر: 21290
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةَ، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: " إِنَّمَا حَبَسَنِي حَدِيثٌ كَانَ يُحَدِّثُنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعْرَهَا، فَقَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، أَتَعْجَبُ مِنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ يَجُرُّ شَعْرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الْأَغْلَالِ يَنْزُو بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَقَالَ لَهُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ أَخَرَجَ نَبِيُّ الْأُمِّيِّينَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَطَاعُوهُ أَمْ عَصَوْهُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ أَطَاعُوهُ، قَالَ: ذَلِكَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَهَلْ غَارَتِ الْمِيَاهُ؟ "
ترجمہ

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر کی، پھر باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے ایک ایسی بات نے روک رکھا تھا جو تمیم داری مجھے سنایا کرتے تھے، ایک ایسے شخص کے بارے میں جو سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا، اسے ایک عورت ملی جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی، اس نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ہوں، کیا تم مجھ پر حیران ہو رہے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو اس نے کہا: اس محل کی طرف جاؤ، تو وہ اس کی طرف گیا، وہاں ایک آدمی اپنے بال گھسیٹتا ہوا ملا، زنجیروں میں جکڑا ہوا، آسمان اور زمین کے درمیان اچھل رہا تھا، اس نے اس سے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں دجال ہوں، کیا امیوں کا نبی ظاہر ہو چکا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، اس نے کہا: تو کیا لوگوں نے اس کی اطاعت کی یا نافرمانی کی؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ انہوں نے اس کی اطاعت کی، اس نے کہا: یہ ان کے لیے بہتر ہے، اور کیا پانی خشک ہو گیا ہے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21290
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 371، حدیث 922