المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ زَوْجَهَا حَفْصَ بْنَ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيَّ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ، وَعَلَيْهَا عِدَّةٌ» ، وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولًا: «لَا تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ» ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهَا: «أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَأْتِيهَا الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ، انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ» ، فَلَمَّا انْتَقَضَتْ عِدَّتُهَا أَنْكَحَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَسیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ان کے شوہر حفص بن مغیرہ مخزومی نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تین طلاقیں دے دیں، پھر وہ یمن چلے گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے نفقہ نہیں، اور اس پر عدت ہے۔“ اور آپ ﷺ نے ان کی طرف ایک قاصد بھیج کر پیغام دیا: ”اپنے معاملے میں مجھ سے آگے نہ بڑھنا۔“ اور انہیں ام شریک کے ہاں منتقل ہونے کا حکم دیا، پھر ان کی طرف پیغام بھیجا: ”ام شریک کے ہاں تو ابتدائی مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں، تم ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ۔“ جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔