المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
فاطمة بنت حمزة بن عبد المطلب تكنى أم الفضل " ويقال اسمها أمامة ويقال عمارة " باب: سیدہ فاطمہ بنت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، جن کی کنیت ام فضل تھی؛ بعض کے نزدیک ان کا نام امامہ تھا، اور بعض کے نزدیک عمارہ
حدیث نمبر: 21254
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ وَهُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ أُخْتِي، فَسَأَلْتُ الْقَوْمَ فَحَدَّثَنِي أَصْحَابُهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ: «أَنَّ ابْنَةً لِحَمْزَةَ، وَهِيَ أُخْتٌ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِأُمِّهِ مَاتَ مَوْلَاهَا، وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَابْنَةَ حَمْزَةَ، فَقَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَالَ نِصْفَيْنِ»ترجمہ
سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: میں عبداللہ بن شداد کے پاس پہنچا، اس حال میں کہ وہ لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے، تو میں نے انہیں حدیث کے آخر میں ”میری بہن“ کہتے سنا، تو میں نے لوگوں سے پوچھا، انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ انہیں بیان کر رہے تھے: ”حمزہ رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی، جو عبداللہ بن شداد بن ہاد کی ماں کی طرف سے بہن ہیں، کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا اور اپنی بیٹی اور بنت حمزہ کو چھوڑ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مال آدھا آدھا تقسیم کر دیا۔“