حدیث نمبر: 21240
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أُمُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا فَقَالَ: «رَحِمَكِ اللهُ يَا أُمِّي، كُنْتِ أُمِّي بَعْدَ أُمِّي، وتُشْبِعِينِي وتَعْرَيْنَ، وتُكْسِينِي، وتَمْنَعِينَ نَفْسَكِ طَيِّبًا، وتُطْعِمِينِي تُرِيدِينَ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ» ، ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُغَسَّلَ ثَلَاثًا، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءُ الَّذِي فِيهِ الْكَافُورُ سَكَبَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ خَلَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَأَلْبَسَهَا إِيَّاهُ وَكَفَّنَهَا بِبُرْدٍ فَوْقَهُ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَأَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَغُلَامًا أَسْوَدَ يَحْفُرُونَ فَحَفَرُوا قَبْرَهَا فَلَمَّا بَلَغُوا اللَّحْدَ حَفَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَأَخْرَجَ تُرَابَهُ بِيَدِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَاضْطَجَعَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ، ولَقِّنْهَا حُجَّتَها، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا، بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وأَدْخَلُوها اللَّحْدَ هُوَ وَالْعَبَّاسُ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب فاطمہ بنت اسد بن ہاشم، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ، فوت ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، اے میری ماں! تو میری ماں کے بعد میری ماں تھی، تو خود بھوکی رہ کر مجھے کھلاتی تھی، خود ننگی رہ کر مجھے کپڑا پہناتی تھی، اور اپنے آپ کو اچھی چیز سے محروم رکھ کر مجھے کھلاتی تھی، اس سے تیرا مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر ہوتا تھا۔“ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں تین بار غسل دیا جائے، جب کافور ملا پانی آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے ڈالا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی قمیص اتاری اور انہیں پہنائی، اور اس کے اوپر ایک چادر میں انہیں کفن دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسامہ بن زید، ابوایوب انصاری، عمر بن خطاب اور ایک سیاہ فام غلام کو بلایا کہ وہ قبر کھودیں، تو انہوں نے ان کی قبر کھودی، جب وہ لحد تک پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے لحد کھودی اور اس کی مٹی اپنے ہاتھ سے نکالی، جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ قبر میں داخل ہوئے اور اس میں لیٹ گئے، پھر فرمایا: ”اللہ، جو زندہ کرتا اور مارتا ہے، اور وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرے گا، میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے، اسے اس کی دلیل سکھا دے، اور اس کے داخل ہونے کی جگہ کشادہ کر دے، تیرے نبی کے اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کے حق کے واسطے، بے شک تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے ان پر چار تکبیریں کہیں، اور آپ ﷺ، عباس اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم نے مل کر انہیں لحد میں اتارا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21240
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 351، حدیث 871