المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمرة بنت سهل صاحب الصاعين باب: سیدہ عمرہ بنت سہل رضی اللہ عنہا، صاحب الصاعین کی بیٹی
حدیث نمبر: 21219
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْحُدْثَيُّ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَلَوِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ أُمَّهَا عَمْرَةَ بِنْتَ سَهْلِ بْنِ رَافِعٍ صَاحِبِ الصَّاعَيْنِ الَّذِي لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَاهَا خَرَجَ بِزَكَاتِهِ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ، وبابْنَتِهِ عَمْرَةَ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ الصَّاعَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، قَالَ: «وَمَا هِيَ؟» قَالَ: أَنْ تَدْعُو لِي، وَلَهَا بِالْبَرَكَةِ، وَتَمْسَحُ رَأْسَهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي وَلَدٌ غَيْرَهَا، قَالَتْ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلِيَّ، قَالَتْ: وَأُقْسِمُ وَاللهِ لَكَأَنَّ بَرْدَ كَفِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كَبِدِي بَعْدُترجمہ
سیدہ عمرہ بنت سہل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد اپنی زکاۃ کے دو صاع کھجور لے کر نکلے، اور اپنی بیٹی عمرہ کو بھی ساتھ لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے دونوں صاع ڈال دیے، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ سے ایک حاجت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ عرض کیا: آپ میرے لیے اور اس کے لیے برکت کی دعا کریں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیریں، کیونکہ اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں۔ عمرہ کہتی ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک میرے سر پر رکھا۔ وہ کہتی ہیں: اور میں اللہ کی قسم کھاتی ہوں کہ گویا رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کی ٹھنڈک آج بھی میرے کلیجے پر ہے۔