المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صفية بنت عبد المطلب من أخبارها باب: سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 21174
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ النِّسَاءَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ أُطَمًا مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ» ، وَكَانَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَجُلًا جَوَادًا، فَأَدْخَلَهُ مَعَ النِّسَاءِ، وَأَغْلَقَ الْبَابَ فَجَاءَ يَهُودِيٌّ، فَقَعَدَ عَلَى بَابِ الْأُطُمِ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: انْزِلْ حَسَّانُ إِلَى هَذَا الْعِلْجِ فَاقْتُلْهُ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَجْعَلَ نَفْسِي خَطَرًا لِهَذَا الْعِلْجِ، فَائْتَزَرْتُ بِكِسَاءٍ وَأَخَذْتُ فِهْرًا، فَنَزَلْتُ إِلَيْهِ فَقَطَعْتُ رَأْسَهُترجمہ
روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن عورتوں کو مدینہ کے قلعوں میں سے ایک قلعے میں داخل کیا، اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ (جنگ کے معاملے میں) بزدل آدمی تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں بھی عورتوں کے ساتھ اندر داخل کر کے دروازہ بند کر دیا۔ اتنے میں ایک یہودی آیا اور قلعے کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حسان! اس کافر کے پاس اتر کر اسے قتل کرو۔ انہوں نے کہا: میں اپنے آپ کو اس کافر کے مقابلے میں خطرے میں نہیں ڈالوں گا۔ تو میں نے ایک چادر باندھی اور ایک پتھر لے کر اس کی طرف اتری اور اس کا سر کاٹ دیا۔