❮
❯
حدیث نمبر: 21133
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ جَدَّتَهُ سَلْمَى أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أَبِي رَافِعٍ بِشَاةٍ، وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِيمَا أَعْلَمُ، فَصَلَاهَا أَبُو رَافِعٍ، وَجَعَلَهَا فِي مِكْتَلٍ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهَا، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا مِنَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ لَهُ: «يَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا رَافِعٍ، نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَيْنِ؟، فَقَالَ: «لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مَا سَأَلْتُكَ»
ترجمہ

سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابورافع رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بکری بھیجی، اور یہ خندق کے دن کی بات تھی، جہاں تک مجھے علم ہے۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے بھونا اور ایک ٹوکرے میں رکھ کر لے چلے، تو نبی کریم ﷺ خندق سے واپس آتے ہوئے ان سے ملے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے ابورافع! مجھے بازو کا گوشت دو۔“ تو میں نے آپ ﷺ کو دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! مجھے بازو دو۔“ تو میں نے آپ ﷺ کو دیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! مجھے بازو دو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بکری کے دو ہی بازو ہوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم خاموش رہتے تو میں جو مانگتا رہتا وہی تم مجھے دیتے رہتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21133
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 300، حدیث 763