❮
❯
حدیث نمبر: 21131
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فَائِدٌ، مَوْلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ سَلْمَى، مَوْلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَزِيرَةً، وقَرَّبَتْها فَأَكَلَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَبَقِيَ مِنْهَا قَلِيلٌ، فَمَرَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَها الْأَعْرَابِيُّ كُلَّهَا بِيَدِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعْهُ» ثُمَّ قَالَ: «سَمِّ اللهَ، وَكُلْ مِنْ أَدْنَاهَا تَشْبَعْ» فَشَبِعَ مِنْهَا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ،
ترجمہ

سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا، رسول اللہ ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی، نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے خزیرہ بنایا اور آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا، تو آپ ﷺ نے کھایا اور آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ بھی تھے، اس میں سے تھوڑا سا بچ گیا۔ پھر ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا، اس دیہاتی نے وہ سارا اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اسے رکھو۔“ پھر فرمایا: ”بسم اللہ پڑھو، اور اس کے قریب ترین حصے سے کھاؤ، سیر ہو جاؤ گے۔“ چنانچہ وہ اس سے سیر ہو گیا اور کچھ بچ بھی گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21131
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 300، حدیث 761