حدیث نمبر: 21042
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتْ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي ثُمَّ جِئْتُ عُمَرَ، فَسَأَلْتُهُ مَاذَا عَلِيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟، فَقَالَ: لَا عِدَّةَ عَلَيْكِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وإِنَّما يُتْبَعُ فِي ذَلِكَ قَضَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةَ، وَكَانَتْ عِنْدَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ بِهَا
ترجمہ

عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے سیدہ رُبَیِّع بنت مُعَوِّذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے عرض کیا: مجھے اپنا واقعہ بتائیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے شوہر سے خلع لیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے پوچھا کہ مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے فرمایا: تم پر کوئی عدت نہیں سوائے اس کے کہ ابھی تمہارے نکاح کو تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہو، تو ایسی صورت میں ایک حیض تک ٹھہری رہو۔ انہوں نے کہا: اور اس بارے میں دراصل رسول اللہ ﷺ کے اس فیصلے کی پیروی کی جاتی ہے جو آپ ﷺ نے مریم مغالیہ کے بارے میں فرمایا تھا، وہ ثابت بن قیس بن شمّاس کے نکاح میں تھیں، تو انہوں نے اسی بنا پر ان سے خلع لیا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21042
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 265، حدیث 672