حدیث نمبر: 21030
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالُوا: قَدِمَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ الْمَدِينَةَ مُهَاجِرَةً فَنَزَلَتْ دَارَ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى الزُّرَقِيِّ فَقَالَ لَهَا نِسْوَةٌ جَالِسِينَ إِلَيْهَا مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: أَنْتِ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ} [المسد: ٢] مَا يُغْنِي عَنْكِ مُهاجَرُكِ؟، فَأَتَتْ دُرَّةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَشَكَتْ إِلَيْهِ مَا قُلْنَ لَهَا فَسَكَّنَها وَقَالَ: «اجْلِسِي» ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ الظُّهْرَ، وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ مَا لِي أُوذِي فِي أَهْلِي فَوَاللهِ إِنَّ شَفَاعَتِي لَتَنَالُ حَيَّ حَا، وَحُكْمَ وصَدَاءَ وسَلْهَبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
لَا شَيْءَ
ترجمہ

کسی نے سیدہ دُرّہ رضی اللہ عنہا کو یہ آیت سنائی: ”ٹوٹ گئے ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ خود بھی ہلاک ہوا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا“ [سورۃ المسد: 2]، اور کہا: تیری ہجرت تجھے کیا فائدہ دے گی؟ چنانچہ دُرّہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی اور کچھ دیر منبر پر بیٹھے رہے، پھر فرمایا: ”لوگو! مجھے میرے گھر والوں کے بارے میں کیوں تکلیف دی جاتی ہے؟ اللہ کی قسم، میری شفاعت قیامت کے دن حَیّ حاء، حُکم، صُداء اور سَلہَب (قبیلوں) تک بھی پہنچے گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21030
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 259، حدیث 660