حدیث نمبر: 20996
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ حُمَّ فَاشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى فَقُلْتُ: أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ قَدِ اشْتَدَّتْ بِكَ الْحُمَّى فَلَوْ دَعَوْتَ اللهَ فَكَشَفَها عَنْكَ، فَقَالَ: «أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» قَالَتْ: وَقَدْ عُلِّقَ لَهُ سِقَاءٌ عَلَى شَجَرَةٍ وَاضْطَجَعَ تَحْتَهُ، وَالْمَاءُ تَقْطُرُ عَلَى فُؤَادِهِ
ترجمہ

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی، آپ ﷺ کو بخار تھا اور بخار شدت اختیار کر گیا تھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو بخار کی شدت ہے، کاش آپ اللہ سے دعا کرتے کہ وہ اسے آپ سے دور کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کو ہوتی ہے، پھر ان کے بعد آنے والوں کو۔“ وہ کہتی ہیں: اور آپ ﷺ کے لیے ایک مشکیزہ درخت پر لٹکایا گیا تھا اور آپ ﷺ اس کے نیچے لیٹے ہوئے تھے، اور پانی آپ ﷺ کے دل پر ٹپک رہا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20996
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 244، حدیث 626