المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة " وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف، وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه وسلم " باب: سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا، جن کی کنیت ام حبیبہ تھی، وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں
حدیث نمبر: 20922
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: اسْتُحِضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَلَجَّمِي، واحْتَشِي كُرْسُفًا» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي أَثُجُّهُ ثَجًّا قَالَ: فاسْتَدْخِلِي، وَاسْتَثْفِرِي، وَتَحَيَّضِي فِي عَلِمِ اللهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةً فَاغْتَسِلِي، وَصُومِي، وَصَلِّي ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ أَوْ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، وَأَخِّرِي الظُّهْرَ، وَقَدِّمِي الْعَصْرَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلًا، وَاغْتَسِلِي لِلْفَجْرِ، وَهَذَا أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ "ترجمہ
سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے شدید استحاضہ کا خون آیا تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پٹی باندھ لو اور روئی اندر رکھ لو۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ اس سے بھی شدید ہے، وہ تو بہت زیادہ بہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو روئی اندر رکھو، مضبوطی سے باندھو، اور اللہ کے علم کے مطابق ہر مہینے چھ یا سات دن حیض شمار کرو، پھر غسل کرو، روزہ رکھو اور تئیس یا چوبیس دن رات نماز پڑھو، اور ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کرو، اور دونوں کے لیے ایک غسل کر لو، اور فجر کے لیے الگ غسل کر لو، اور یہی طریقہ مجھے دونوں میں سے زیادہ پسند ہے۔“