حدیث نمبر: 20921
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ، وَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي حَاجَةً، قَالَ: «مَا هِيَ أَيْ هَنْتَاهُ» ، قُلْتُ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً قَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَالَ: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ» قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَتَلَجَّمِي» قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «فَاتَّخِذِي ثَوْبًا» ، قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا يَثِجُّ ثَجًّا، قَالَ: «سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيُّهُمَا فَعَلْتِ ذَلِكَ فَقَدْ أَجْزَأَكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ» ، وَقَالَ: «إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ» قَالَ: «سَتَحِيضِينَ سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةً فِي عَلِمِ اللهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَيْقَنْتِ فَصَلِّي أَرْبَعَةً، وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَأَيَّامَهَا أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ، وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، ويَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ، وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِي لَهُمَا جَمِيعًا، ثُمَّ تُؤَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِي الْعِشَاءَ فَتَغْتَسِلِينَ لَهُمَا وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرَ فَكَذَلِكَ فَافْعَلِي، وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ» ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ أَنْ تَلَجَّمِي» يَعْنِي تَسْتَثْفِرِي
ترجمہ

سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: مجھے کثرت اور طوالت کے ساتھ استحاضہ کا خون آتا تھا، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس فتویٰ پوچھنے اور اپنا حال بتانے کے لیے آئی، میں نے آپ ﷺ کو اپنی بہن زینب کے گھر پایا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایک ضرورت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے، اے پیاری؟“ میں نے کہا: مجھے کثرت اور طوالت کے ساتھ استحاضہ کا خون آتا ہے، جس نے مجھے نماز اور روزے سے روک دیا ہے، آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں روئی استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، وہ خون کو روک دیتی ہے۔“ میں نے کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پٹی باندھ لو۔“ میں نے کہا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کوئی کپڑا استعمال کرو۔“ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ اس سے بھی زیادہ ہے، وہ تو بہت شدت سے بہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، تم ان میں سے جو بھی کر لو وہ دوسری سے کافی ہو جائے گی، اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھتی ہو تو تم خود بہتر جانتی ہو۔“ اور فرمایا: ”یہ تو شیطان کی ایک ٹھوکر ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے علم کے مطابق تمہیں چھ یا سات دن حیض آیا کرے گا، پھر غسل کر لینا، پھر جب تمہیں یقین ہو جائے کہ تم پاک ہو چکی ہو تو چوبیس راتیں اور ان کے دن، یا تئیس راتیں اور ان کے دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہو گا، اور ہر مہینے اسی طرح کرو جیسے عام عورتیں اپنے حیض اور طہر کے مقررہ وقت کے مطابق حائضہ ہوتی اور پاک ہوتی ہیں۔ اور اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے دونوں کے لیے ایک ہی غسل کر لو، پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم کر کے دونوں کے لیے غسل کر کے دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لو، اور فجر کے ساتھ الگ غسل کر لو، تو ایسا کر لو، اور روزہ بھی رکھو اگر اس کی طاقت رکھتی ہو۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہ دونوں باتوں میں مجھے زیادہ پسندیدہ ہے کہ تم پٹی باندھو“، یعنی کپڑا لپیٹ کر مضبوطی سے باندھ لو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20921
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 217، حدیث 551