المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حمنة بنت جحش تكنى أم حبيبة " وهي امرأة عبد الرحمن بن عوف، وهي أخت زينب زوج النبي صلى الله عليه وسلم " باب: سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا، جن کی کنیت ام حبیبہ تھی، وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی زوجہ اور نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ، حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: " كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ، وَأَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ: " مَا هِيَ أَيْ هَنْتَاهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ لِحَدِيثٌ وَاللهِ مَا مِنْهُ بُدٌّ وَإِنِّي لَأَسْتَحْيِي مِنْهُ قَالَ: فَمَا هُوَ أَيْ هَنْتَاهُ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً فَمَا تَرَى فِيهَا قَدْ مَنَعْتَنِي الصَّلَاةَ وَالصَّوْمَ، فَقَالَ لَهَا: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِالدَّمِ» قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «أَمَا إِنِّي سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيُّهُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ، وَإِنْ قَدَرْتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ فَصَلِّي أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي كُلَّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ، وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ، وَإِنْ قَدَرْتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ، وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلِينَ لَهُمَا، ثُمَّ تُصَلِّيَنَ الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ تُؤَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ، وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي، وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ غُسْلًا وَتُصَلِّينَ كَذَلِكَ فَافْعَلِي وَصَلِّي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ» قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ إِلَيَّ»اللہ کی قسم! اس سے چارہ نہیں، اور مجھے اس سے شرم آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے، اے پیاری؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے شدید اور کثرت کے ساتھ استحاضہ کا خون آتا ہے، اس میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس نے مجھے نماز اور روزے سے روک رکھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں روئی کا مشورہ دیتا ہوں، وہ خون کو روک دیتی ہے۔“ میں نے کہا: یہ اس سے زیادہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سنو، میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں، تم ان میں سے جو بھی کر لو وہ دوسری سے کافی ہو جائے گی، اور اگر تم دونوں پر قدرت رکھتی ہو تو تم خود بہتر جانتی ہو، یہ تو شیطان کی ایک ٹھوکر ہے، پس چوبیس راتیں اور ان کے دن نماز پڑھو اور روزہ رکھو، یہ تمہارے لیے کافی ہو گا، اور ہر مہینے اسی طرح کرو جیسے عام عورتیں اپنے حیض اور طہر کے مقررہ وقت کے مطابق حائضہ ہوتی اور پاک ہوتی ہیں، اور اگر تم اس بات کی طاقت رکھو کہ ظہر کو مؤخر اور عصر کو مقدم کر کے دونوں کے لیے غسل کرو، پھر ظہر اور عصر دونوں اکٹھی پڑھو، پھر مغرب کو مؤخر اور عشاء کو مقدم کر کے دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ لو، اور فجر کے ساتھ الگ غسل کر کے اسی طرح نماز پڑھو، تو ایسا کر لو، اور نماز پڑھو اور روزہ رکھو اگر اس کی طاقت رکھتی ہو۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہی طریقہ مجھے زیادہ پسند ہے۔“