حدیث نمبر: 20790
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى ضَاحِيَةِ مُضَرٍ، فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا فِي أَرْضِ صَخْرٍ فَأَصْبَحُوا، فَإِذَا هُمْ بِرَجُلٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ بِفِنَائِهِ غَنْمٌ، فَجَاءُوا حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: احْرِزْنَا، فَأَحَرَزَهُمْ شَاةً فَطَبَخُوا مِنْهَا، ثُمَّ أَخْرَجَ إِلَيْهِمْ فَسَخَطُوهَا، ثُمَّ قَالَ: مَا بَقِيَ فِي غَنَمِي مِنْ شَاةِ لَحْمٍ إِلَّا شَاةٌ مَاخِضٌ أَوْ فَحَلٌّ فَسَعَطُوا، فَأَخَذُوا مِنْهَا شَاةً فَلَمَّا أَظْهَرُوا واحْتَرَقُوا وَهُمْ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ لَا ظِلَّ مَعَهُمْ، قَالُوا: غُنَيْمَتَهُ فِي مَظَلَّتِهِ، فَقَالُوا: نَحْنُ أَحَقُّ بِالظِّلِّ مِنْ هَذِهِ الْغَنَمِ، فَجَاءُوهُ فَقَالُوا: أخْرِجْ عَنَّا غَنَمَكَ نَسْتَظِلُّ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَتَى تُخْرِجُوهَا تَهْلِكُ فَتَطْرَحُ أَوْلَادَهَا، وَإِنِّي رَجُلٌ قَدْ آمَنْتُ بِاللهِ وَبِرَسُولِهِ، وَقَدْ صَلَّيْتُ وَزَكَّيْتُ، فَأَخْرَجُوا غَنَمَهُ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ حَتَّى تَنَاعَرَتْ فَطَرَحَتْ. أَوْلَادَهَا، فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ: «اجْلِسْ حَتَّى يَرْجِعَ الْقَوْمُ» فَلَمَّا رَجَعُوا جَمَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ فَتَوَاتَرُوا عَلَيْهِ كَذِبٌ كَذِبٌ، فَسُرِّيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ قَالَ: أَمَا وَاللهِ إِنَّ اللهَ لِيَعْلَمُ أَنِّي لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ، وَلَعَلَّ اللهَ يُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَدَعَاهُمْ رَجُلًا رَجُلًا يُنَاشِدُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُنْشِدُهُ، فَلَمْ يَنْشُدْ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا كَمَا قَالَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ، الْكَذِبُ يَكْتُبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ: رَجُلٌ يَكْذِبُ امْرَأَتَهُ لِتَرْضَى عَنْهُ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ فِي خُدْعَةِ حَرْبٍ، وَرَجُلٌ يَكْذِبُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا "
ترجمہ

”… تو وہ تیزی سے چل کر نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ ﷺ کو ساری بات بتائی، تو نبی کریم ﷺ کو سخت غصہ آیا، پھر فرمایا: ”بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ وہ لوگ واپس آ جائیں۔“ جب وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان اور اسے (اعرابی کو) اکٹھا کیا، تو ان سب نے یکے بعد دیگرے کہا: جھوٹ ہے، جھوٹ ہے۔ تو نبی کریم ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ جب اعرابی نے یہ دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں اور یہ لوگ جھوٹے ہیں، اور شاید اللہ آپ کو بتا دے، یا رسول اللہ۔ تو نبی کریم ﷺ کے دل میں یہ بات آئی کہ وہ سچا ہے، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک ایک کر کے بلایا اور ہر ایک سے قسم لی، تو ہر ایک نے وہی کہا جو اعرابی نے کہا تھا۔ تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں کیا چیز اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ تم جھوٹ میں یکے بعد دیگرے پڑتے چلے جاؤ جیسے پروانے آگ میں پڑتے چلے جاتے ہیں، ابن آدم پر ہر جھوٹ لکھا جاتا ہے سوائے تین خصلتوں کے: وہ آدمی جو اپنی بیوی سے جھوٹ بولے تاکہ وہ اس سے راضی ہو جائے، وہ آدمی جو جنگ کے دھوکے میں جھوٹ بولے، اور وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 164، حدیث 419