المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم جعفر بن محمد بن جعفر بن أبي طالب، عن جدتها أسماء باب: جعفر بن محمد بن جعفر بن ابی طالب کی والدہ کی اپنی دادی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، صَاحِبُ الْمَغَازِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ عِيسَى، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ، دَخَلَ عَلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَجَنْتُ عَجِينَهُمْ وَغَسَلَتُ بَنِيَّ وَدَهَنْتُهُمْ وَنَظَّفْتُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِينِي بِبَنِي جَعْفَرٍ» قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ فَشَمَّهُمْ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ؟ أَبَلَغَكَ شَيْءٌ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ» قَالَتْ: فَقُمْتُ أَصِيحُ وَاجْتَمَعَ إِلَى النِّسَاءِ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ: «لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا، فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ»سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں نے ان کا آٹا گوندھ لیا تھا اور اپنے بیٹوں کو نہلا کر تیل لگا دیا تھا اور انہیں صاف ستھرا کر دیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جعفر کے بیٹوں کو لاؤ۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں انہیں آپ ﷺ کے پاس لے آئی، آپ ﷺ نے انہیں سونگھا اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ کو جعفر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی خبر ملی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ آج شہید کر دیے گئے۔“ وہ کہتی ہیں: تو میں چیخ کر اٹھی اور عورتیں میرے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کی طرف نکلے اور فرمایا: ”جعفر کے گھر والوں کو نظرانداز نہ کرو، ان کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کی وفات کے معاملے میں مصروف ہو گئے ہیں۔““