حدیث نمبر: 20747
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى بَنِيهَا بَنِي جَعْفَرٍ فَقَالَ: «مَا لِأَجْسَامِهِمْ ضَارِعَةً» فَقَالَتْ: إِنَّ الْعَيْنَ تُسْرِعُ إِلَيْهِمْ أَفَأَرْقِيهِمْ؟ قَالَ: «بِمَاذَا؟» فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ كَلَامًا لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، فَقَالَ: «ارْقِيهِمْ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے بیٹوں، بنی جعفر، کو دیکھا اور فرمایا: ”ان کے جسم کمزور کیوں ہیں؟“ انہوں نے عرض کیا: انہیں جلد نظر لگ جاتی ہے، تو کیا میں انہیں دم کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس چیز سے؟“ تو انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے ایسے الفاظ پیش کیے جن میں کوئی حرج نہ تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں دم کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20747
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 142، حدیث 376