المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صفية بنت شيبة بن عثمان الحجبية، عن أسماء باب: صفیہ بنت شیبہ بن عثمان حجبیہ کی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا فَلَبِسَهَا حَتَّى أَدْرَكَ بُرْدًا، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَمَا رَفَعَ لَمْ يَكُنْ عَلِمَ أَنَّهُ رَكَعَ شَيْئًا، وَلَمَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ، وَالْمَرْأَةُ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، فَأَقُولُ: أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ "سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”نبی کریم ﷺ اس دن گھبرا گئے جس دن سورج کو گرہن لگا، تو آپ ﷺ نے (جلدی میں) ایک قمیص (دِرع) پکڑ کر پہن لی یہاں تک کہ (بعد میں) چادر ملی، پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو بہت طویل قیام کروایا، کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے، پھر اٹھتے، اگر کوئی آدمی رکوع کے بعد آتا تو اسے معلوم ہی نہ ہوتا کہ آپ ﷺ نے کچھ رکوع کیا ہے، اور نہ ہی وہ طویل قیام کی وجہ سے یہ سوچتا کہ رکوع ہوا ہے۔ چنانچہ میں اس عورت کو دیکھنے لگی جو مجھ سے زیادہ عمر رسیدہ تھی، اور اس عورت کو جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی، وہ کھڑی تھیں، تو میں کہتی: میں طویل قیام پر صبر کرنے کی زیادہ حق دار ہوں۔“