المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله مولى أسماء، عن أسماء باب: عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 20631
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخُو الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ مِنْكُنَّ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى نَرْفَعَ رُءُوسَنَا» أَنْ يَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ لِقِصَرِ أُزُرِهِمْ، وَكَانُوا إِذْ ذَاكَ يَأْتَزِرْنَ هَذِهِ النَّمِرَةَ "ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک ہم اپنا سر نہ اٹھا لیں“ - تاکہ وہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہیں نہ دیکھ لیں، اور اس وقت وہ اسی دھاری دار چادر (نمرہ) کا تہبند باندھا کرتے تھے۔