المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله مولى أسماء، عن أسماء باب: عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 20632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ مَوْلًى، لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَرْفَعِ امْرَأَةٌ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ» وَذَلِكَ أَنَّ أُزُرَهُمْ كَانَتْ قَصِيرَةً مَخَافَةَ أَنْ تَنْكَشِفَ عَوْرَاتُهُمْترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عورتو! تم میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھائے جب تک مرد اپنے سر نہ اٹھا لیں۔“ اور یہ اس لیے تھا کہ ان کے تہبند چھوٹے تھے، اس خدشے سے کہ کہیں ان کی شرمگاہیں ظاہر نہ ہو جائیں۔