❮
❯
حدیث نمبر: 20630
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْغِمْرِ، ثنا ضِمَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قَتَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: قُلْ لَهَا: يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ: اعْزِلِي مَا كَانَ لَكِ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: أَفْعَلُهَا بِابْنِ أَسْمَاءَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفٍ رَجُلَانِ، أَحَدُهُمَا يَكْذِبُ، وَالْآخَرُ مُبِيرٌ» فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ "
ترجمہ

عقیل بن خالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب حجاج نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا تو ان کے والد حجاج کے ساتھ تھے، حجاج نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے کہو: حجاج آپ سے کہتا ہے: آپ کا جو مال ہے اسے عبداللہ بن زبیر کے مال سے الگ کر لیں۔ تو انہوں نے فرمایا: کیا میں یہ اسماء کے بیٹے کے ساتھ کروں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”ثقیف کے اس قبیلے میں سے دو آدمی نکلیں گے، ایک جھوٹا ہوگا اور دوسرا تباہ کن (مبیر) ہوگا۔“ جہاں تک جھوٹے کا تعلق ہے تو ہم اسے پہچان چکے ہیں، اور میرا خیال ہے کہ یہ (حجاج) ہی تباہ کن ہے۔ (عقیل کے والد کہتے ہیں:) چنانچہ میں اس (حجاج) کے پاس واپس گیا اور اسے بتا دیا تو اسے یہ بات ناگوار نہ لگی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20630
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 97، حدیث 259