المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عروة بن الزبير، عن أسماء، هشام بن عروة، عن أبيه باب: عروہ بن زبیر نے جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی؛ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْقَزَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا خَرَجَتْ بَعْدَمَا قُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ تَوَكَّأُ عَلَى مَوْلَيَيْنِ لَهَا، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى الْحَجَّاجِ، فَقَالَتْ: أَمَا آنْ لَكُمْ أَنْ تَفْرَغُوا مِنْ هَذَا الْجَسَدِ فَتَأْذَنُونَ لَنَا فِيهِ فَنُغَيِّبُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّ لَنَا فِيهِ لِحَاجَةً بَعْدُ، فَقَالَتْ لِمَوْلَيَيْهَا: خُذَا بِيَدِي، أَمَا إِنِّي أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ» فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَنْتَ، فَقَالَ: اللهُمَّ مُبِيرٌ لَا كَذَّابٌسیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کیے جانے کے بعد وہ اپنے دو غلاموں کے سہارے چلتے ہوئے نکلیں، یہاں تک کہ حجاج کے پاس گئیں اور کہا: کیا اب وقت نہیں آیا کہ تم اس جسد سے فارغ ہو جاؤ اور ہمیں اجازت دو کہ ہم اسے دفن کر دیں؟ حجاج نے کہا: ابھی ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ تو انہوں نے اپنے دونوں غلاموں سے کہا: میرا ہاتھ پکڑو۔ خبردار! میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ثقیف میں سے ایک بڑا جھوٹا اور ایک ہلاک کرنے والا نکلے گا۔“ تو دیکھ لے تو ان میں سے کون ہے؟ تو اس نے کہا: اے اللہ! میں ہلاک کرنے والا ہوں، جھوٹا نہیں۔