المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عروة بن الزبير، عن أسماء، هشام بن عروة، عن أبيه باب: عروہ بن زبیر نے جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی؛ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ الشَّمْسَ كُسِفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ دُونَ الْقِيَامِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ، ثُمَّ رَكَعَ دُونَ الرُّكُوعِ الَّذِي قَبْلَهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أُرَنِيهِ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ حَتَّى الْجَنَّةِ وَالنَّارِ» ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ»سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، پھر دیر تک کھڑے رہے، پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، پھر پہلے قیام سے کم قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے کم رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے نہ دکھائی گئی ہو مگر میں نے اسے دیکھ لیا، یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی۔“ پھر فرمایا: ”مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ تمہیں اپنی قبروں میں مسیح دجال کے فتنے کے قریب ایک فتنے میں ڈالا جائے گا۔“