المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى عروة بن الزبير، عن أسماء، هشام بن عروة، عن أبيه باب: عروہ بن زبیر نے جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی؛ ہشام بن عروہ کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 20574
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلِيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُدَّتَهُمْ، فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلِيَّ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ»ترجمہ
...جب قریش نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کیا اور ان کی صلح کی مدت مقرر ہوئی، تو میں نے نبی کریم ﷺ سے مسئلہ پوچھا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ خواہش مند ہیں، تو کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔“