المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب الألف — ما أسندت أسماء بنت أبي بكر باب: الالف — سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی مرویات
حدیث نمبر: 20573
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَسَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عُلْيَا، فَقَالَتْ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا»ترجمہ
مسلم قری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کی رخصت دی، جبکہ ابن زبیر اس سے منع کیا کرتے تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ ابن زبیر کی والدہ ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس میں رخصت دی تھی، تم ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ راوی کہتے ہیں: تو ہم ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک بھاری بھرکم، دراز قد عورت ہیں، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے اس میں رخصت دی تھی۔“