المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أسماء بنت أبي بكر الصديق رضي الله عنها " وأمها قتيلة بنت عبد العزى بن عبد أسعد من بني مالك ذكر سنها ووفاتها، ومن أخبارها " باب: سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا، ان کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن عبداسعد، بنو مالک سے تھیں؛ ان کی عمر اور وفات کا ذکر، اور ان کے احوال میں سے
حدیث نمبر: 20572
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ يَعْلَى بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ عَجُوزٌ، كَبِيرَةٌ، طَوِيلَةٌ، مَكْفُوفَةُ الْبَصَرِ، فَقَالَتْ لِلْحَجَّاجِ: «أَمَا آنْ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ»ترجمہ
یعلیٰ بن حرملہ بیان کرتے ہیں: میں مکہ میں داخل ہوا اس کے بعد کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ قتل کیے جا چکے تھے، تو ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا آئیں، وہ بوڑھی، بڑی عمر کی، لمبے قد کی اور نابینا تھیں، انہوں نے حجاج سے کہا: ”کیا اس سوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا؟“