المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى علي بن الحسين، عن صفية باب: علی بن حسین نے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حدیث نمبر: 20561
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ وَهُوَ عَاكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ مَعِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي لَيُبْلِغُنِي بَيْتِي، فَلَقِيَهُ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ اسْتَحْيَيَا فَرَجَعَا، فَقَالَ: «تَعَالا، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقَالَا مَعَاذَ اللهِ، سُبْحَانَ اللهِ، فَقَالَ: «مَا أَقُولُ لَكُمَا أَنْ تَكُونَ تَظُنَّانِ شَرًّا، وَلَكِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ»ترجمہ
...میں آپ ﷺ سے باتیں کر رہی تھی جبکہ آپ ﷺ مسجد میں اعتکاف میں تھے، تو ایک رات آپ ﷺ میرے ساتھ چلے تاکہ مجھے میرے گھر تک پہنچا دیں، راستے میں دو انصاری صحابہ سے ملاقات ہوئی، جب انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو شرم کے مارے واپس مڑ گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ، یہ تو صفیہ ہیں، نبی کریم ﷺ کی زوجہ۔“ انہوں نے عرض کیا: معاذ اللہ، سبحان اللہ، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں یہ نہیں کہتا کہ تم دونوں کوئی بری بات سوچ رہے تھے، لیکن مجھے معلوم ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔“