المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى علي بن الحسين، عن صفية باب: علی بن حسین نے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْعَوَابِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، وَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَلُّبَهَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ قَرِيبًا مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ عِنْدَ بَابِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكُمَا مَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ» قَالَا: سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الْإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُقْذَفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا»سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا، زوجہ نبی ﷺ، بیان کرتی ہیں کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں رسول اللہ ﷺ کی ملاقات کے لیے آئیں جبکہ آپ ﷺ مسجد میں اعتکاف میں تھے، انہوں نے کچھ دیر آپ ﷺ کے پاس باتیں کیں، پھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ بھی انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ جب مسجد کے دروازے کے قریب، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی ﷺ کے دروازے کے پاس پہنچے، تو نبی کریم ﷺ کے پاس سے دو انصاری صحابہ گزرے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور رسول اللہ ﷺ کی یہ بات ان پر گراں گزری، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اور مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے۔“