المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى علي بن الحسين، عن صفية باب: علی بن حسین نے جو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حدیث نمبر: 20560
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ لَيْلًا فِي الْمَسْجِدِ فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ» فَقَالَا: سُبْحَانَ اللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يُقْذَفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا» أَوْ قَالَ: «شَرًّا»ترجمہ
...اور ان کا مسکن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، تو دو انصاری صحابہ گزرے، جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو تیز چل کر آگے بڑھ گئے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شیطان ابن آدم میں خون کی طرح دوڑتا ہے، اور مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں کوئی وسوسہ نہ ڈال دے“ یا فرمایا: ”کوئی بری بات۔“