حدیث نمبر: 20559
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَاعْتَلَّ بَعِيرُ صَفِيَّةَ، وَكَانَ مَعَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعِيرَ صَفِيَّةَ قَدِ اعْتَلَّ فَلَوْ أَعْطَيْتِهَا بَعِيرًا؟» قَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَجَرَهَا بَقِيَّةَ ذِي الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمِ، وَصَفَرٍ، وَأَيَّامًا مِنْ رَبِيعٍ حَتَّى رَفَعَتْ مَتَاعَهَا وَسَرِيرَهَا، وَظَنَّتْ أَنَّهُ لَا حَاجَةَ لَهُ فِيهَا، فَبَيْنَا هِيَ ذَاتَ يَوْمٍ قَاعِدَةٌ نِصْفَ نَهَارٍ وَإِذْ رَأَتْ ظِلَّهُ قَدْ أَقْبَلَ فَأَعَادَتْ سَرِيرَهَا وَمَتَاعَهَا
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہو گیا، اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فالتو سواری تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”صفیہ کا اونٹ بیمار ہو گیا ہے، اگر تم اسے ایک اونٹ دے دو تو کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں اس یہودیہ کو دوں؟ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ کے باقی دن، پورا محرم، پورا صفر اور ربیع کے کچھ دن ان سے الگ رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا سامان اور پلنگ ہٹا لیا، اور سمجھیں کہ اب آپ ﷺ کو ان کی کوئی ضرورت نہیں رہی، پھر ایک دن وہ دوپہر کے وقت بیٹھی تھیں کہ اچانک انہوں نے آپ ﷺ کا سایہ آتا دیکھا تو فوراً اپنا پلنگ اور سامان واپس رکھ دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 71، حدیث 188