❮
❯
حدیث نمبر: 20558
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ لِي صَفِيَّةُ: هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِّي فَلَكِ يَوْمِي، فَلَبِسْتُ خِمَارًا كَانَتْ لِي مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ، وَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنَّهُ لَيْسَ بِيَوْمِكِ» ، فَقُلْتُ: ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ، وَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَرَضِيَ عَنْهَا
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کسی بات پر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو گئے، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: کیا تم رسول اللہ ﷺ کو میری طرف سے راضی کر سکتی ہو، اس کے بدلے میں اپنی باری کا دن تمہیں دے دوں گی؟ چنانچہ میں نے اپنی ایک اوڑھنی پہنی جو زعفران سے رنگی ہوئی تھی، اور اسے پانی سے تر کیا، پھر آ کر رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں بیٹھ گئی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”مجھ سے دور ہٹ جاؤ، یہ تمہاری باری کا دن نہیں ہے۔“ میں نے عرض کیا: یہ تو اللہ کا فضل ہے جو وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور میں نے آپ ﷺ کو سارا واقعہ بتایا تو آپ ﷺ اس سے راضی ہو گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20558
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 70، حدیث 187