حدیث نمبر: 20530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ فِي سَهْمِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ - أَو لِابْنِ عَمٍّ لَهُ - فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللهِ مَا هِيَ إِلَّا أَنْ وَقَعَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَكَرِهْتُهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسَنَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ، وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا قَدْ رَأَيْتَ، وَإِنِّي قَدْ وَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ - أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ - وَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ عَلَى كِتَابَتِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ جویریہ بنت حارث بن مصطلق رضی اللہ عنہا قیدیوں کی تقسیم میں ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ یا ان کے کسی چچازاد بھائی کے حصے میں آئیں، تو انہوں نے اپنی آزادی کے لیے مکاتبت کر لی، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی مکاتبت میں مدد مانگنے آئیں۔ اللہ کی قسم! وہ بس حجرے کے دروازے پر آئی ہی تھیں کہ مجھے یہ بات ناگوار گزری، وہ ایک خوبصورت عورت تھیں کہ جو بھی انہیں دیکھتا وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ہوں، جو اپنی قوم کے سردار کی بیٹی ہوں، اور مجھ پر وہ مصیبت آئی ہے جو آپ نے دیکھی، مجھے ثابت بن قیس یا ان کے کسی چچازاد بھائی کے حصے میں دیا گیا ہے اور میں نے اپنی آزادی کے لیے ان سے مکاتبت کر لی ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی مکاتبت میں مدد مانگنے آئی ہوں۔ پھر راوی نے یہ حدیث تفصیل سے بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20530
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 60، حدیث 159