المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
جويرية بنت الحارث بن أبي ضرار بن الحارث بن عائذ بن مالك بن المصطلق من خزاعة، واسم المصطلق خزيمة باب: سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق، خزاعہ سے، رضی اللہ عنہا (مصطلق کا نام خزیمہ تھا)
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي بِبَعْضِ حَدِيثِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَنِي الْمُصْطَلِقِ يَجْمَعُونَ لَهُ، وَقَائِدُهُمُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ إِلَيْهِمْ حَتَّى لَقِيَهُمْ عَلَى مَاءٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ الْمُرَيْسِيعُ مِنْ نَاحِيَةِ قُدَيْدٍ إِلَى السَّاحِلِ، فَتَزَاحَمَ النَّاسُ وَاقْتَتَلُوا، فَهَزَمَ اللهُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقُتِلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ضِرَارٍ أَبُو جُوَيْرِيَةَ، وَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ مِنْهُمْ، وَنَفَّلَ اللهُ رَسُولَهُ أَبْنَاءَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَ مِنْهُمْ سَبْيًا كَثِيرًا قَسَمَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ فِيمَا أَصَابَ يَوْمَئِذٍ مِنَ النِّسَاءِ: جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدَةُ نِسَاءِ قَوْمِهَا "محمد بن اسحاق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مجھے عاصم بن عمر بن قتادہ، عبداللہ بن ابی بکر اور محمد بن یحییٰ بن حبان نے بنو مصطلق کے واقعہ کا کچھ کچھ حصہ بیان کیا، رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی کہ بنو مصطلق آپ ﷺ کے خلاف جمع ہو رہے ہیں، اور ان کا سردار حارث بن ابی ضرار تھا، جو سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے والد تھے جو بعد میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ بنیں، جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی خبر سنی تو آپ ﷺ ان کی طرف نکلے یہاں تک کہ ان سے ان کے ایک پانی کے مقام پر ملاقات ہوئی جسے مریسیع کہا جاتا ہے، جو قدید کی جانب ساحل کے قریب ہے، تو لوگ ایک دوسرے سے ٹکرائے اور لڑائی ہوئی، اللہ تعالیٰ نے بنو مصطلق کو شکست دی، حارث بن ابی ضرار قتل ہو گئے، اور جو قتل ہونے والے تھے وہ قتل ہوئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان کے بیٹوں اور عورتوں کو مالِ غنیمت میں عطا فرمایا، اور رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے بہت سے قیدی حاصل کیے جنہیں آپ ﷺ نے مسلمانوں میں تقسیم فرمایا، اور اس دن آپ ﷺ نے جن عورتوں کو حاصل کیا ان میں سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں، جو اپنی قوم کی عورتوں کی سردار تھیں۔