حدیث نمبر: 20497
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِنَّائِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْهُذَلِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَخْبَرَنِي بِأَعْجَبَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ قَالَتْ لِي أُمِّي: يَا أَنَسُ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ عَرُوسًا، وَلَا أَرَى أَصْبَحَ لَهُ غَدَاءً فَهَلُمَّ تِلْكَ الْعُكَّةَ وَتَمْرًا قَدْرَ مُدٍّ، فَجَعَلَتْ لَهُ حَيْسًا، فَقَالَتْ: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَامْرَأَتِهِ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ ذَلِكَ الْحَيْسُ، قَالَ: «ضَعْهُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، وَاذْهَبْ فَادْعُ لِي أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ ادْعُ لِي أَهْلَ الْمَسْجِدِ وَمَنْ رَأَيْتَ فِي الطَّرِيقِ» فَجَعَلْتُ أَتَعْجَبُ مِنْ قِلَّةِ الطَّعَامِ وَمَنْ كَثْرَةِ مِنْ يَأْمُرُنِي أَنْ أَدْعُو مِنَ النَّاسِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَعْصِيهِ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ وَالْحُجْرَةُ، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟» قُلْتُ: لَا يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ: «هَلُمَّ ذَاكَ التَّوْرَ» فَجِئْتُ بِذَلِكَ التَّوْرِ فَجَعَلْتُهُ قُدَّامَهُ فَغَمَسَ ثَلَاثَ أَصَابِعٍ فِي التَّوْرِ فَجَعَلَ التَّوْرُ يَرْبُو وَيَرْتَفِعُ، فَجَعَلُوا يَتَغَدَّوْنَ وَيَخْرُجُونَ حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَجْمَعُونَ، بَقِيَ فِي التَّوْرِ نَحْوَ مَا جِئْتُ بِهِ، قَالَ: «ضَعْهُ قُدَّامَ زَيْنَبَ» فَخَرَجْتُ فَأَسْقَفْتُ عَلَيْهَا الْبَابَ مِنْ جَرِيدٍ قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْنَا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، كَمْ تَرَى كَانُوا الَّذِينَ يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ التَّوْرِ؟ قَالَ: «أَحْسَبُهُ وَاحِدًا وَسَبْعِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ»
ترجمہ

وہ کہتی ہیں: اے انس! یہ لے کر رسول اللہ ﷺ اور ان کی بیوی کے پاس جاؤ۔ تو جب میں پتھر کے برتن میں وہ حَیس لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے گھر کے ایک کونے میں رکھ دو، اور جاؤ ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور اپنے چند دیگر ساتھیوں کو میرے پاس بلا لاؤ، پھر مسجد والوں کو اور جو بھی تمہیں راستے میں ملے اسے بلا لاؤ۔“ تو میں کھانے کی قلت اور جتنے لوگوں کو بلانے کا حکم دیا گیا تھا ان کی کثرت پر تعجب کرنے لگا، لیکن میں نے آپ ﷺ کی نافرمانی کرنا مناسب نہ سمجھا، یہاں تک کہ گھر اور کمرہ بھر گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! کیا کوئی باقی ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اے اللہ کے نبی! آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ برتن لاؤ۔“ تو میں وہ برتن لے آیا اور آپ ﷺ کے سامنے رکھا، تو آپ ﷺ نے اپنی تین انگلیاں برتن میں ڈالیں، تو برتن بڑھنے اور اوپر اٹھنے لگا، تو وہ کھانے لگے اور نکلتے گئے، یہاں تک کہ جب سب فارغ ہو گئے تو برتن میں تقریباً اتنا ہی باقی رہ گیا جتنا میں لایا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے زینب کے سامنے رکھ دو۔“ تو میں نکلا اور ان کے لیے کھجور کی چھال سے دروازہ ڈھانپ دیا۔ ثابت کہتے ہیں: ہم نے پوچھا: اے ابو حمزہ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اس برتن سے کھانے والے کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ وہ اکہتر یا بہتر تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20497
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 47، حدیث 126