المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، وذكر سنها، ووفاتها، ومن أخبارها باب: نبی کریم ﷺ کے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ذکر، ان کی عمر اور وفات کا بیان، اور ان کے احوال میں سے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ، مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَأَرْسَلْتُ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَشِيرُهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا؟» قَالَتْ: وَمَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ؟» قَالَ: فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُزَوِّجُ بِنْتَ عَمَّتِكَ مَوْلَاكَ؟ قَالَتْ: جَاءَتْنِي فَأَعْلَمَتْنِي فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا، وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ} [الأحزاب: ٣٦] ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُلْتُ: إِنِّي اسْتَغْفِرُ اللهَ وَأُطِيعُ اللهَ وَرَسُولَهُ، افْعَلْ مَا رَأَيْتَ، فَزَوَّجْنِي زَيْدًا، وَكُنْتُ أَرْثِي عَلَيْهِ، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَاتَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عُدْتُ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللهَ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أُطَلِّقُهَا، قَالَتْ: فَطَلَّقَنِي، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي لَمْ أَعْلَمْ إِلَّا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ عَلِيَّ بِبَيْتِي وَأَنَا مَكْشُوفَةُ الشَّعْرِ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ أَمَرٌ مِنَ السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ بِلَا خِطْبَةٍ وَلَا إِشْهَادٍ؟ فَقَالَ: «اللهُ الْمُزَوِّجُ وَجِبْرِيلُ الشَّاهِدُ»سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مجھے قریش کے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام دیا، تو میں نے اپنی بہن حمنہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس مشورہ لینے بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اس کا مقام اس سے کہاں کم ہے جو اسے اس کے رب کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت سکھائے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زید بن حارثہ۔“ تو حمنہ کو شدید غصہ آیا، اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ اپنی پھوپھی کی بیٹی کا نکاح اپنے غلام سے کریں گے؟ وہ میرے پاس آئیں اور مجھے بتایا تو مجھے ان سے بھی زیادہ غصہ آیا، اور میں نے ان سے بھی سخت بات کہی، تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کسی مومن مرد اور مومنہ عورت کے لیے یہ روا نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو ان کے لیے اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔“ [سورۃ الاحزاب: 36] میں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا اور کہا: میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی ہوں، جو مناسب سمجھیں کریں۔ تو آپ ﷺ نے میرا نکاح زید سے کر دیا۔ اور میں ان کے بارے میں شکایت کیا کرتی تھی، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے میری شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ٹوکا، پھر میں دوبارہ اپنی زبان سے انہیں تکلیف دینے لگی، تو انہوں نے پھر رسول اللہ ﷺ سے میری شکایت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو۔“ تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اسے طلاق دیتا ہوں۔ تو انہوں نے مجھے طلاق دے دی، پھر جب میری عدت پوری ہوئی تو مجھے اچانک معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں میرے پاس تشریف لائے ہیں جبکہ میرے بال کھلے ہوئے تھے، تو میں نے سوچا: یہ آسمان کا معاملہ ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بغیر پیغامِ نکاح اور بغیر گواہوں کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نکاح کرانے والا ہے، اور جبریل گواہ ہیں۔“