المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سودة بنت زمعة رضي الله عنها باب: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
حدیث نمبر: 20456
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَشِيتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمْسِكْنِي وَلَا تُطَلِّقْنِي، وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا جُنَاحَ} [النساء: ١٢٨] عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ، فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سودہ رضی اللہ عنہا کو یہ خدشہ ہوا کہ نبی کریم ﷺ انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے رکھیے اور طلاق نہ دیجیے، اور میری باری عائشہ کو دے دیجیے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں“ کہ وہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے، اور وہ جس چیز پر صلح کر لیں وہ جائز ہے۔