حدیث نمبر: 20452
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ، وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يُطِيفُ بِنَا وَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنَّا مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا، فَلَقَدْ قَالَتْ لَهُ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَكَانَتْ قَدْ يَئِسَتْ فَأَرَادَ أَنْ يُفَارِقَهَا فَقَالَتْ: يَوْمِي مِنْكَ وَنَصِيبِي لِعَائِشَةَ فَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهَا "، فَفِيهَا نَزَلَتْ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا} [النساء: ١٢٨]
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ باری کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیتے، اور بمشکل ہی کوئی دن ایسا ہوتا جس میں آپ ﷺ ہم سب کے گرد چکر نہ لگاتے اور ہم میں سے ہر عورت کے قریب نہ جاتے، بغیر مباشرت کے، یہاں تک کہ اس کے پاس پہنچتے جس کی باری کا دن ہوتا تو اس کے پاس رات گزارتے۔ اور سودہ بنت زمعہ، جو مایوس ہو چکی تھیں، اور آپ ﷺ نے انہیں جدا کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: میری باری آپ کی ہے، اور میرا حصہ عائشہ کو دے دیجیے، تو آپ ﷺ نے یہ ان سے قبول کر لیا۔“ چنانچہ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے بے رغبتی یا روگردانی کا خوف رکھے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ آپس میں کوئی صلح کر لیں۔“ [سورۃ النساء: 128]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20452
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 31، حدیث 81