المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سودة بنت زمعة رضي الله عنها باب: سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَذَلِكَ بِمَكَّةَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: «مَنْ؟» قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا، قَالَ: «وَمَنِ الثَّيِّبُ؟» قَالَتْ: سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ، قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ، قَالَ: «فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهَا عَلَيَّ» فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى سَوْدَةَ فَقُلْتُ: يَا سَوْدَةُ مَاذَا أَدْخَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟ قَالَتْ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: وَدِدْتُ فَادْخُلِي عَلَى أَبِي وَاذْكُرِي ذَلِكَ لَهُ، قُلْتُ: وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ وَقَدْ تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَحَيَّيْتُهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، ثُمَّ قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَرْسَلَنِي أَخْطَبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ، فَقَالَ: كُفُؤٌ كَرِيمٌ، فَمَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ؟ قَالَتْ: تُحِبُّ ذَلِكَ، قَالَ: فادْعِيهَا إِلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا، فَقَالَ: أَيْ سَوْدَةُ رَفَعَتْ هَذِهِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفُؤٌ كَرِيمٌ، أَفَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَادْعِيهِ لِي فَدَعَوْتُهُ فَجَاءَ فَزَوَّجَهَا، فَجَاءَ أَخُوهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ زَمْعَةَ مِنَ الْحَجِّ، فَجَعَلَ يَحْثُو فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ: إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثُو فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو خولہ بنت حکیم بن اوقص، جو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، اور یہ مکہ میں تھا، نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس سے؟“ انہوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو کنواری اور اگر چاہیں تو ثیبہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ثیبہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، وہ آپ پر ایمان لا چکی ہیں اور جس دین پر آپ ہیں اس کی پیروی کر چکی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور میری طرف سے ان سے نکاح کا ذکر کرو۔“ تو میں نکلی اور سودہ کے پاس گئی اور کہا: اے سودہ! اللہ نے تم پر کیسی خیر و برکت اتاری ہے! انہوں نے پوچھا: وہ کیا؟ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہیں اپنے لیے نکاح کا پیغام دینے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں یہ چاہتی ہوں، تو تم میرے والد کے پاس جاؤ اور ان سے یہ بات کہو۔ میں نے کہا: اور وہ ایک بوڑھے شخص ہیں اور حج سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ تو میں ان کے پاس گئی اور انہیں جاہلیت کے انداز میں سلام کیا، پھر کہا: محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب نے مجھے آپ کے پاس سودہ کے لیے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: عزت والا رشتہ ہے! تمہاری سہیلی کیا کہتی ہے؟ میں نے کہا: وہ اسے پسند کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا: تو انہیں میرے پاس بلاؤ، تو میں نے انہیں بلایا۔ انہوں نے کہا: اے سودہ! اس نے بتایا ہے کہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب تمہیں نکاح کا پیغام دے رہے ہیں، اور وہ عزت والا رشتہ ہیں، کیا تم پسند کرتی ہو کہ میں تمہارا نکاح ان سے کر دوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو انہیں میرے پاس بلاؤ، تو میں نے انہیں بلایا، تو وہ آئے اور ان سے نکاح کر دیا۔ پھر ان کے بھائی عبداللہ بن زمعہ حج سے آئے تو اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگے، پھر اسلام لانے کے بعد کہا: میں کتنا نادان تھا جس دن میں نے اپنے سر پر مٹی ڈالی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیوں کیا۔