حدیث نمبر: 20399
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ خِرَاشٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتِهِ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفَ دَرَجَةٍ» فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ قَالَ: «ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ»
ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَتْ حَقَّ زَوْجِهَا، وَتَذْكُرُ حُسْنَهُ وَلَا تَخُونَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةً وَاحِدَةً فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ»
ترجمہ

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مردوں کی صف اور عورتوں کی صف کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو ویسے ہی کہو جیسے وہ کہتا ہے، کیونکہ تمہارے لیے ہر حرف کے بدلے دس لاکھ درجات ہیں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ عورتوں کے لیے ہے، مردوں کے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دگنا، اے عمر!“
پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کوئی بھی عورت ایسی نہیں جو اپنے شوہر کی اطاعت کرے، اس کا حق ادا کرے، اس کی خوبی کا ذکر کرے، اور اپنی ذات اور اس کے مال میں اس سے خیانت نہ کرے، مگر اس کے اور شہداء کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔ اور اگر اس کا شوہر مومن، اچھے اخلاق والا ہو تو وہ جنت میں اسی کی بیوی ہو گی، ورنہ اللہ اس کا نکاح شہداء میں سے کسی سے کر دے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20399
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 16، حدیث 28