حدیث نمبر: 20301
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ رَافِعٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَكْثَرَ مَالٍ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ، قَدِمَ عَلَيْهِ فِي جُنْحِ اللَّيْلِ خَرِيطَةٌ فِيهَا ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَصَحِيفَةٌ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، وَكَانَتْ لَيْلَتِي، ثُمَّ انْقَلَبَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى فِي الْحُجْرَةِ فِي مُصَلًّى لَهُ، وَقَدْ مَهَّدْتُ لَهُ وَلِنَفْسِي، فَأَنَا أَنْتَظِرُ، فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى دُعِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: «أَيْنَ تِلْكَ الْخَرِيطَةُ الَّتِي فَتَنَتْنِي الْبَارِحَةَ» فَدَعَا بِهَا فَقَسَمَهَا ثُمَّ قَالَ: «قُبْحًا لَكِ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، فَقَالَ: «كُنْتُ أُصَلِّي فَأُوتَى بِهَا فَأَنْصَرِفُ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهَا ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُصَلِّي»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اور میں نے اس کے اور اپنے لیے بستر بچھا رکھا تھا، تو میں انتظار کر رہی تھی، آپ ﷺ کو دیر ہو گئی، پھر باہر گئے، پھر واپس آئے، اور اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ فجر کی نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی، پھر واپس آئے اور فرمایا: ”وہ تھیلی کہاں ہے جس نے کل رات مجھے مشغول کر دیا تھا؟“ تو اسے منگوایا اور تقسیم کر دیا، پھر فرمایا: ”تجھ پر پھٹکار ہو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کام کیا جو پہلے کبھی نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا کہ وہ میرے پاس لائی گئی، تو میں نماز سے پھر کر اسے دیکھتا رہا، پھر لوٹ کر نماز پڑھتا رہا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20301
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 414، حدیث 999