حدیث نمبر: 20293
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ، فَصَارَ إِلَيَّ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ وَمَعَهُ رَجُلٌ آخِرُ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ؟» ، فَقَالَ: لَا، وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ» ، قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ، وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ عَنْ رَأْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ، أَنْ تُحِلُّوا مِنْ كُلِّ مَا حُرِّمْتُمْ عَنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ، فَإِذَا مَسَسْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ صِرْتُمْ حَرَامًا كَهَيْأَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ» .
ترجمہ

چنانچہ وہب بن زمعہ اور آلِ ابی امیہ کا ایک اور شخص قمیصیں پہنے ہوئے میرے پاس آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابو عبداللہ! کیا تم نے ابھی تک طوافِ افاضہ کر لیا؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قمیص اتار دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اسے اپنے سر کے اوپر سے اتار دیا، اور اس کے ساتھی نے بھی اپنی قمیص سر کے اوپر سے اتار دی، پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس میں تمہیں رخصت دی گئی ہے کہ جب تم جمرے کو کنکریاں مار لو تو ہر اس چیز سے حلال ہو جاؤ جس سے تم نے احرام باندھا تھا، سوائے عورتوں کے۔ اگر تم اس گھر کا طواف کرنے سے پہلے قربت کرو تو تم اسی طرح احرام میں لوٹ آؤ گے جیسے جمرے کو کنکریاں مارنے سے پہلے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20293
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 412، حدیث 991