المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن أم سلمة باب: ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20274
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَلْمَانَ الْقلوسيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا عُمَرُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ وإِيواءِ الْيَتِيمِ وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ وَإِطْعَامِ الْمَسَاكِينِ وَكُلُّ هَذَا قَدْ كَانَ يَفْعَلُهُ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ أَيْ رَسُولُ اللهِ؟، فَقَالَ: «كُلُّ قَبْرٍ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّي أَبَا طَالِبٍ فِي طَمْطَامٍ مِنَ النَّارِ فَأَخْرَجَهُ اللهُ بِمَكَانِهِ مِنِّي وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ فَجَعَلَهُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ»ترجمہ
وہ صحابی کہتے ہیں: میں صلہ رحمی، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک، یتیم کی کفالت، مہمان اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کام کرتا رہا ہوں، اور یہ سب کچھ ہشام بن مغیرہ بھی کیا کرتا تھا، تو یا رسول اللہ! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ قبر جس کا مالک یہ گواہی نہ دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ آگ کا انگارہ ہے، اور میں نے اپنے چچا ابو طالب کو آگ کے ایک گہرے طبقے میں پایا، تو اللہ نے مجھ سے اس کی قرابت اور مجھ پر اس کے احسان کی بنا پر اسے وہاں سے نکال کر آگ کے ایک ہلکے طبقے میں رکھ دیا۔“