المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
شهر بن حوشب، عن أم سلمة باب: شہر بن حوشب کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلَّانُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نَشِيطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَرِّفُهَا عَلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَتْ لِي فِيمَا حَدَّثَتْنِي: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِي يَوْمًا، وَإِنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْهُ بِسَخِيَّةٍ، فَقَالَ: «انْطَلِقِي فَجِيئِي بِزَوْجِكِ أَوِ ابْنِ عَمِّكِ وَابْنَيْكِ» ، فَانْطَلَقْتُ فَجَاءَتْ بِعَلِيٍّ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ، فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا، وَتَحْتَهُ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ فَأَخَذَ الْكِسَاءَ فَجَلَّلَهُمْ إِيَّاهُ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَؤُلَاءِ عِتْرَتِي وَأَهِلِّي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ؟، فَقَالَ: «وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ»راوی بیان کرتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تعزیت کے لیے آیا تو انہوں نے مجھے بتایا: رسول اللہ ﷺ ایک دن میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک گرم کھانے کا برتن لے کر آئیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اپنے شوہر یا اپنے چچا زاد اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ۔“ چنانچہ وہ گئیں اور علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو لے آئیں، تو انہوں نے اس کھانے میں سے کھایا، اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ایک بستر پر تھے، جس کے نیچے ایک خیبری چادر تھی، تو آپ ﷺ نے وہ چادر لے کر ان سب پر ڈال دی، پھر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ میری عترت اور میرے اہلِ بیت ہیں، ان سے ہر گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اہلِ بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھلائی کی طرف ہو۔“