المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عمرة بنت عبد الرحمن، عن أم سلمة باب: عمرہ بنت عبدالرحمن کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20149
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَمَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، قَالَا: ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَحْلُبُهَا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟» ، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ: «مَا فَعَلْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَلْقَيْنَاهُ، قَالَ: «أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِهِ؟، فَإِنَّ دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا يَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی جسے ہم دودھ دوہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے اسے نہ دیکھا تو پوچھا: ”تمہاری بکری کا کیا ہوا؟“ لوگوں نے کہا: وہ مر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال کا کیا کیا؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے اسے پھینک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ اس کا دباغت اس کے ذبح کے قائم مقام ہے، وہ اسی طرح حلال ہو جاتی ہے جیسے شراب سے سرکہ بننے پر وہ حلال ہو جاتا ہے۔“