المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حميد بن نافع، عن زينب، عن أم سلمة باب: حمید بن نافع کی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20114
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَأَكْحُلُهَا؟، قَالَ: «لَا» ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: «لَا» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہے، کیا میں اسے سرمہ لگا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ دو یا تین مرتبہ یہی پوچھا اور ہر بار آپ ﷺ فرماتے رہے: ”نہیں۔“ پھر فرمایا: ”یہ صرف چار مہینے دس دن کی مدت ہے، حالانکہ پہلے تم میں سے کوئی سال بھر کے آخر میں مینگنی پھینکتی تھی۔“