المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
حميد بن نافع، عن زينب، عن أم سلمة باب: حمید بن نافع کی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20115
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَاصِمٌ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، وَذَكَرُوا أَنَّهُمْ يَخْشَوْنَ عَلَى عَيْنِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا كَانَ حَوْلًا رَمَتْ بِبَعْرَةٍ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا؟» .ترجمہ
… ایک عورت جس کا شوہر فوت ہو گیا تھا، اس کی آنکھ میں تکلیف تھی، تو وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے سرمے کی اجازت مانگی، اور بتایا کہ انہیں اس کی آنکھ کے بارے میں خدشہ ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پہلے تم میں سے کوئی اپنے گھر میں ایک سال تک ٹھہرتی تھی، پھر جب سال پورا ہوتا تو مینگنی پھینک دیتی، تو کیا چار مہینے دس دن بھی نہیں کر سکتی؟“