المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن الربيع الأسدي، عن سماك باب: قیس بن ربیع اسدی کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 2003
حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ عَنْ صَلَاتِكُمْ شَيْئًا وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ حَتَّى تَدْحَضَ الشَّمْسُ، لَا يَخْرِمُ عَنْ وَقْتٍ وَاحِدٍ، فَأَمَّا الْإِقَامَةُ فَرُبَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَجَّلَ وَرُبَّمَا أَخَّرَ»ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز تقریباً اسی طرح پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو، اور مغرب کی نماز بھی تقریباً اسی طرح پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو، اور عشاء تمہاری نماز سے کچھ تاخیر سے پڑھتے تھے۔ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ظہر کی اذان سورج ڈھلنے تک مؤخر کرتے تھے، وقت سے ہٹتے نہیں تھے۔ رہی اقامت، تو بسا اوقات رسول اللہ ﷺ نکلتے تو جلدی کر دیتے اور بسا اوقات تاخیر کرتے۔