حدیث نمبر: 19718
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟» ، قَالَتْ: مَا أَنَا بِمُخْلِيَةٍ، وَخَيْرُ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي» ، قَالَتْ: فَوَاللهِ إِنَّا لَنُحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، لَقَدْ أَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»
ترجمہ

ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ، نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: میں تنہا آپ کی حقدار نہیں، اور میری بہن سب سے بہتر ہے کہ وہ میرے ساتھ اس بھلائی میں شریک ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم یہ بات کیا کرتے ہیں کہ آپ دُرہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ نہ ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اسے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ اس لیے تم اپنی بیٹیاں یا بہنیں میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19718
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 224، حدیث 414