حدیث نمبر: 19719
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي حَمْنَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: «أَصْنَعُ مَاذَا؟» ، قَالَتْ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: «فَهَلْ تَحِلُّ لِي؟» ، قَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «أَرَبِيبَتِي فِي حِجْرِي فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي، أَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا أُمَّهَاتِكُنَّ» .
ترجمہ

زینب بنت ابی سلمہ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ حمنہ بنت ابی سفیان کو نکاح میں لینا پسند کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ انہوں نے کہا: اس سے نکاح کر لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ میرے لیے حلال ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ زینب بنت ابی سلمہ کو پیغام بھیجنے والے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہیں؟ اللہ کی قسم! اگر وہ میری ربیبہ نہ بھی ہوتی، تب بھی وہ میرے بھائی کی بیٹی ہے، اسے اور مجھے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، اس لیے تم اپنی بیٹیاں، بہنیں یا مائیں میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19719
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 224، حدیث 415